Sialkot Mein Wadera Shahi Nizam Ka Khatan - Daily Jahan-e-Such
*حاضر سروس پولیس آفیسر کا سیاسی ڈیرے پر سلوٹ ویڈیو وائرل*
سیالکوٹ میں وڈیرہ شاہی نظام کی ایک اور شرمناک تصویر سامنے آ گئی *سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک حاضر سروس پولیس آفیسر وردی میں سیاسی وڈیرے کے ڈیرے پر پہنچ کر عام شہریوں کے سامنے سلوٹ مارتا دکھائی دیتا ہے* جبکہ سیاسی شخصیت کرسی پر بیٹھے بادشاہوں جیسا پروٹوکول لیتے نظر آتے ہیں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں *کہ آخر پولیس عوام کی محافظ ہے یا سیاسی طاقتوروں کی درباری۔*
شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے *کہ مذکورہ پولیس آفیسر کا مقصد صرف اپنا تبادلہ رکوانا* اور سیالکوٹ میں ہی پسندیدہ تعیناتی برقرار رکھنا ہے *تاکہ باقی نوکری بھی سیاسی سرپرستی میں آرام سے گزاری جا سکے* جبکہ دیگر شہری طنزیہ انداز میں کہہ رہے ہیں *کہ شاید محکمہ پولیس کا نیا وقار یہی رہ گیا ہے کہ وردی میں ملبوس افسر سیاسی ڈیروں پر جا کر سلوٹ ماریں* اور طاقتور خاندانوں کی خوشنودی حاصل کریں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے *کہ تقریباً 8 سے 10 روز گزرنے کے باوجود آئی جی پنجاب کی جانب سے تاحال متعلقہ آفیسر کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا* شہری حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ معاملہ اب انتظامی نہیں *بلکہ سیاسی بن چکا ہے اور نوٹیفکیشن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم کا منتظر ہے۔*
*اگر وزیراعلیٰ پنجاب تمام تر شواہد سامنے آنے کے باوجود کسی سیاسی دباؤ یا سفارش پر اس افسر کا تبادلہ روک دیتی ہیں* تو پھر یہ صرف ایک افسر کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ پورے *محکمہ پولیس کی غیرجانبداری وقار اور قانون کی بالادستی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جائے گا۔*
*میری ذاتی رائے میں اگر سیاسی اثرورسوخ قانون اور میرٹ پر غالب آ جائے تو پھر ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن ر دوست محمد اور ایس پی انویسٹیگیشن کو بھی اپنی پیشہ وارانہ عزت نفس کیلئے خود ہی اپنے تبادلوں کی درخواستیں وزیراعلیٰ پنجاب کی میز پر رکھ دینی چاہئیں* کیونکہ جب ثبوت طاقتور سیاسی شخصیات کے سامنے بے معنی ہو جائیں تو پھر فائلوں میں بند شواہد کو سنبھالنے کا بھی کوئی مقصد باقی نہیں رہتا۔
